بیویوں کے ساتھ ہمیشہ کریمانہ اخلاق سے پیش آنا چاہیے ، یہ کمزور مخلوق ہے اس پر رحم کھانا چاہیے ۔

میرے ایک دوست کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا تو وہ کہنے لگی: مجھے میکے چھوڑ آؤ ۔
وہ اسے میکے چھوڑنے گئے تو ساتھ خرچہ بھی دے کر آئے ، اور کہا:
اگرچہ ہم میں جھگڑا ہواہے ، اور سخت جھگڑا ہوا ہے ؛ لیکن تم اب بھی میری بیوی ہو ، تمھارا بوجھ اٹھانا میری ذمے داری ہے ۔
تم جب تک چاہے میکے رہو ، لیکن اخراجات میرے ذمے !

بیوی پر اُن کے اخلاق کا اتنا اثر ہوا کہ جلد ہی راضی ہوکر واپس آگئی ، اور آج سترہ سال ہونے کو ہیں ، وہ دوبارہ کبھی ناراض ہوکر میکے نہیں گئی ۔

بیویوں کے ساتھ ہمیشہ کریمانہ اخلاق سے پیش آنا چاہیے ، یہ کمزور مخلوق ہے اس پر رحم کھانا چاہیے ۔

کریم رب نے تو طلاق دینے والے مردوں کو بھی فرمادیا کہ طلاق دینے کے بعد:سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ، عورتوں کو اچھے طریقے سے چھوڑو ۔
یہ نہیں کہ زوجیت سے نکل گئی ہیں تو انھیں ذلیل و رسوا کرو ۔

ہمارے معاشرے کا یہ بھی ناسور ہے کہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیویوں سے ناراض ہوجاتے ہیں اور صرف ناراض ہی نہیں ہوتے ، بچے تک چھین کر اُنھیں میکے بھیج دیتے ہیں ۔
بعض خواتین تو ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے بچے میکے والے ہی چھڑا دیتے ہیں ۔ العیاذبااللہ

اللہ کریم ہمیں اچھے اخلاق کا مالک بنائے اور اپنی بیویوں کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کرنے کی توفیق عطافرمائے !
منقول

ایک خاوند نے اپنی بیوی کو پہلی ملاقات میں یہ نصیحت کی۔ کہ چار باتوں کا خیال رکھنا: ❤

❤ ایک خاوند نے اپنی بیوی کو پہلی ملاقات میں یہ نصیحت کی۔ کہ چار باتوں کا خیال رکھنا: ❤

❤ پہلی بات یہ کہ مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔ اس لئے میں نے آپ کو بیوی کے طور پر پسند کیا۔ اگر آپ مجھے اچھی نہ لگتیں تو میں نکاح کے ذریعے آپ کو گھر ہی نہ لاتا۔ آپ کو بیوی بنا کر گھر لانا اس بات کا ثبوت ہے کہ مجھے آپ سے محبت ہے تا ہم میں انسان ہوں فرشتہ نہیں ہوں اگر کسی وقت میں غلطی کر بیٹھوں تو تم اس سے چشم پوشی کر لینا۔ چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو نظر انداز کر دینا. ❤

❤ اور دوسری بات یہ کہ مجھے ڈھول کی طرح نہ بجانا۔ بیوی نے کہا، کیا مطلب؟ اس نے کہا جب بالفرض اگر میں غصے میں ہوں تو میرے سامنے اس وقت جواب نہ دینا۔ مرد غصے میں جب کچھ کہہ رہا ہو اور آگے سے عورت کی بھی زبان چل رہی ہو تو یہ چیز بہت خطرناک ہوتی ہے۔ اگر مرد غصے میں ہے۔ تو عورت اوائڈ کر جائے اور بلفرض عورت غصے میں ہے تو مرد اوائڈ کر جائے۔ دونوں طرف سے ایک وقت میں غصہ آ جانا یوں ہے کہ رسی کو دونوں طرف سے کھینچنے والی بات ہے۔ ایک طرف سے رسی کو کھینچیں اور دوسری طرف سے ڈھیلا چھوڑ دیں تو وہ نہیں ٹوٹتی اگر دونوں طرف سے کھینچیں تو پھر کھچ پڑنے سے وہ رسی ٹوٹ جاتی ہے. ❤

❤ تیسری نصیحت یہ ہے کہ دیکھنا مجھ سے راز و نیاز کی ہر بات کرنا مگر لوگوں کے شکوے اور شکائیتیں نہ کرنا۔ چونکہ اکثر اوقات میاں بیوی آپس میں تو بہت اچھا وقت گزار لیتے ہیں۔ مگر نند کی باتیں ساس کی باتیں فلاں کی باتیں، یہ زندگی کے اندر زہر گھول دیتی ہیں۔ اس لئے شکوے شکائتوں سے ممکنہ حد تک گریز کرنا. ❤

❤اور چوتھی بات کہ دیکھنا دل ایک ہے یا تو اس میں محبت ہو سکتی ہے یا اس میں نفرت۔ ایک وقت میں دو چیزیں دل میں نہیں رہ سکتیں۔ اگر خلافِ اصول میری کوئی بات بری لگے تو دل میں نہ رکھنا، مجھے

💫 _*عورت اور ہمارا رویہ*_ 💫



کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں بوڑھی ہو جاتی ہے؟
کیوں شادی ہوتے چند سال میں بیٹی اپنی ماں کی بہن دکھنے لگتی ہے؟
خوبصورت سے خوبصورت عورت کا جسم وقت سے پہلے بے ڈھنگا اور بدنما ہوتا چلا جاتا ہے. مرد شادی کے چند سال بعد اپنی ہی بیوی کا چھوٹا بھائی دکھائی دیتا ہے.
اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ہمارا معاشرہ، مرد یا عورت کی جسمانی ساخت؟

عورت جسمانی طور پر شاید مرد کے مقابلہ میں کمزور ہو لیکن فطرت نے اس کی جسم میں وہ تمام صلاحتیں رکھی ہیں جن کی بدولت وہ نہ صرف افزائش نسل کا فریضہ سر انجام دے سکے بلکہ اپنی ساخت کو ایسے برقرار رکھ سکے جو مرد کے لیے کشش اور مسرت کی وجہ ہو.
لیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے.
ہمارے معاشرہ میں اکثریت لڑکیوں کی شادی ان کی پسند کی نہیں ہوتی مرضی سے ہوتی ہے . لڑکی کی مرضی کسی نہ کسی صورت میں سمجھوتے کی ایک شکل ہوتی ہے.
یہ سمجھوتا کچھ معاملات میں عورت خود اختیار کرتی ہے جس کے پس منظر میں ماں باپ کی محبت اور گھر کی عزت کے ساتھ جذبہ شکر گزری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے.
اور کچھ مواقع پر عورت کو مجبورََ سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے.
ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی کے فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہوا جائے اس لیے دوسرے یا تیسرے رشتہ کو ہاں کی سند مل جاتی ہے. پھر عمومًا یہ دعا بھی رخصتی کے وقت دل کی گہرائیوں سے دی جاتی ہے کہ اس گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی اٹھے. شادی کے بعد عورت کو اولین فریضہ افزائش نسل سمجھتا جاتا ہے جس کے ساتھ اضافی ذمہ داریوں میں شوہر کی خدمت، سسرالیوں کی نازبرداریاں، اولاد کی تربیت، اور گھر کی مکمل ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے.
سات سالوں میں چھے بچوں کی پیدا

💫 _*عورت اور ہمارا رویہ*_ 💫



کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت مرد سے پہلے کیوں بوڑھی ہو جاتی ہے؟
کیوں شادی ہوتے چند سال میں بیٹی اپنی ماں کی بہن دکھنے لگتی ہے؟
خوبصورت سے خوبصورت عورت کا جسم وقت سے پہلے بے ڈھنگا اور بدنما ہوتا چلا جاتا ہے. مرد شادی کے چند سال بعد اپنی ہی بیوی کا چھوٹا بھائی دکھائی دیتا ہے.
اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے ہمارا معاشرہ، مرد یا عورت کی جسمانی ساخت؟

عورت جسمانی طور پر شاید مرد کے مقابلہ میں کمزور ہو لیکن فطرت نے اس کی جسم میں وہ تمام صلاحتیں رکھی ہیں جن کی بدولت وہ نہ صرف افزائش نسل کا فریضہ سر انجام دے سکے بلکہ اپنی ساخت کو ایسے برقرار رکھ سکے جو مرد کے لیے کشش اور مسرت کی وجہ ہو.
لیکن ایسا کیوں ہے کہ ہمارے معاشرہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے.
ہمارے معاشرہ میں اکثریت لڑکیوں کی شادی ان کی پسند کی نہیں ہوتی مرضی سے ہوتی ہے . لڑکی کی مرضی کسی نہ کسی صورت میں سمجھوتے کی ایک شکل ہوتی ہے.
یہ سمجھوتا کچھ معاملات میں عورت خود اختیار کرتی ہے جس کے پس منظر میں ماں باپ کی محبت اور گھر کی عزت کے ساتھ جذبہ شکر گزری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے.
اور کچھ مواقع پر عورت کو مجبورََ سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے.
ہم سب کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی شادی کے فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہوا جائے اس لیے دوسرے یا تیسرے رشتہ کو ہاں کی سند مل جاتی ہے. پھر عمومًا یہ دعا بھی رخصتی کے وقت دل کی گہرائیوں سے دی جاتی ہے کہ اس گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی اٹھے. شادی کے بعد عورت کو اولین فریضہ افزائش نسل سمجھتا جاتا ہے جس کے ساتھ اضافی ذمہ داریوں میں شوہر کی خدمت، سسرالیوں کی نازبرداریاں، اولاد کی تربیت، اور گھر کی مکمل ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے.
سات سالوں میں چھے بچوں کی پیداش بھی شامل ہوتی ہے.یہ حقیقت ہے



Continue reading “💫 _*عورت اور ہمارا رویہ*_ 💫”
Create your website at WordPress.com
Get started