*ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﯿﺌﮯ، ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ سکتا*

ﺍﮔﺮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ بہتر ﮨﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺘﮯ ﮔﯽ؟

ﺍﮔﺮ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺻﻮﻓﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ؟

ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺼﺮ ﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺷﺘﺮ ﻣﺮﻍ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺟﻦ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ  ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ پنکھے اوراے ﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﯾﮟ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ؟

ﺁﭖ ﺍپنی خوبصورت ﮐﺎﺭ ﻟﯿﮑﺮ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮯ، ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ غرور اور گھمنڈ ہوگا ؟

ﮨﺮﻗﻞ بادشاہ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺗﻮ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ آپ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ کے فرج کا پانی پیش کریں گے  ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ؟

ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻨﯽ ﺟﺎﮐﻮﺯﯼ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ؟

جناب ﺁﭖ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺭﮨﮯ ہیں ، ﺑﻠﮑﮧ ﺳﭻ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﭺ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﯿﮟ آپ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺼﯿﺐ ﺳﮯ ﻧﺎﻻﮞ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﺍﺣﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﺳﻌﺘﯿﮟ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﯿﻨﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺗﻨﮓ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ !!!

*ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﯿﺌﮯ، ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺠﯿﺌﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﯽ ﺍﻥ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ سکتا*😊
                                 ( آجنبی کوربه )  منقول

دل پہ دستک


ایک ٹویوٹا پراڈو کے دروازے پہ ڈینٹ تھا۔ اسکے مالک نے ڈینٹ والا دروازہ کبھی مرمت نہیں کرایا. کوئی پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا “زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے”۔
سننے والا اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر قدرے حیران ہوتا اور پھر سمجھتے، نہ سمجھتے ہوئے سر ہلا دیتا؛
-سرگوشی سنو گے یا اینٹ سے بات سنو گے !
ایک نوجوان بزنس مینیجر اپنی برانڈ نیو ٹویوٹا پراڈو میں دفتر سے ڈی ایچ اے میں واقع گھر جاتے ہوئے ایک پسماندہ علاقے سے گزرا جو مضافات میں ہی واقع تھا. اچانک اس نے ایک چھوٹے بچے کو بھاگ کر سڑک کی طرف آتے دیکھا تو گاڑی آہستہ کردی. مگر پھر بھی اس نے بچے کو کوئی چیز اچھالتے دیکھا۔ ٹھک کی آواز کے ساتھ ایک اینٹ اس کی نئی گاڑی کے دروازے پر لگی تھی. اس نے فوراً بریک لگائی اور گاڑی سے باہر نکل کر دروازہ دیکھا جس پر کافی بڑا ڈینٹ پڑ چکا تھا.
اس نے غصے سے ابلتے ہوئے بھاگ کر اینٹ مارنے والے بچے کو پکڑا اور زور سے جھنجھوڑا. “اندھے ہوگئے ہو، پاگل کی اولاد؟ تمہارا باپ اس کے پیسے بھرے گا؟” وہ زرو سے دھاڑا
میلی کچیلی شرٹ پہنے بچے کے چہرے پر ندامت اور بے چارگی کے ملے جلے تاثرات تھے.
“سائیں، مجھے کچھ نہیں پتہ میں اور کیا کروں؟
میں ہاتھ اٹھا کر بھاگتا رہا مگر کسی نے گل نئیں سنی.” اس نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں کچھ کہا. اچانک اس کی آنکھوں سے آنسو ابل پڑے اور سڑک کے ایک نشیبی علاقے کی جانب اشارہ کیا “ادھر میرا ابا گرا پڑا ہے. بہت وزنی ہے. مجھ سے اُٹھ نہیں رہا تھا، میں کیا کرتا سائیں؟”۔
بزنس ایگزیکٹو کے چہرے پر ایک حیرانی آئی اور وہ بچے کے ساتھ ساتھ نشیبی علاقے کی طرف بڑھا تو دیکھا ایک معذور شخص اوندھے منہ مٹی میں پڑا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک ویل چیئر گری پڑی تھی۔ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ شائد وزن کے باعث بچے سے ویل چیئر سنبھالی نہیں گئی اور نیچے آگری اور ساتھ ہی پکے ہوئے چاول بھی گرے ہوئے تھے جو شاید باپ بیٹا کہیں سے مانگ کے لائے تھے۔
“سائیں، مہربانی کرو. میرے ابے کو اٹھوا کر کرسی پر بٹھا دو.” اب میلی شرٹ والا بچہ باقاعدہ ہچکیاں لے رہا تھا۔
نوجوان ایگزیکٹو کے گلے میں جیسے پھندا سا لگ گیا۔ اسے معاملہ سمجھ آگیا اور اپنے غصے پر بہت ندامت محسوس ہورہی تھی۔ اس نے اپنے سوٹ کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ کر پوری طاقت لگا کر کراہتے ہوئے معذور شخص کو اٹھایا اور کسی طرح ویل چیئر پر بٹھا دیا۔ بچے کے باپ کی حالت غیر تھی اور چہرہ خراشوں سے بھرا پڑا تھا۔
وہ بھاگ کر اپنی گاڑی کی طرف گیا اور بٹوے میں سے پچاس ہزار نکالے اور کپکپاتے ہاتھوں سے معذور کی جیب میں ڈال دیے۔ پھر ٹشو پیپر سے اس کی خراشوں کو صاف کیا اور ویل چیئر کو دھکیل کر اوپر لے آیا۔ بچہ ممنونیت کے آنسوؤں سے اسے دیکھتا رہا اور پھر باپ کو لیکر اپنی جھگی کی طرف چل پڑا۔ اس کا باپ مسلسل آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے نوجوان کو دعائیں دے رہا تھا۔
نوجوان نے بعد میں ایک خیراتی ادارے کے تعاون سے جھگی میں رہنے والوں کے لیے ایک جھگی سکول کھول دیا اور آنے والے سالوں میں وہ بچہ بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ پڑھ لکھ کر زندگی کی دوڑ میں شامل ہوگیا۔
وہ پراڈو اس کے پاس مزید پانچ سال رہی، تاہم اس نے ڈینٹ والا دروازہ مرمت نہیں کرایا. کبھی کوئی اس سے پوچھتا تو وہ بس یہی کہتا “زندگی کی دوڑ میں اتنا تیز نہیں چلنا چاہیے کہ کسی کو اینٹ مار کر گاڑی روکنی پڑے”۔
اوپر والا کبھی ہمارے کانوں میں سرگوشیاں کرتا ہے اور کبھی ہمارے دل سے باتیں کرتا ہے. جب ہم اس کی بات سننے سے انکار کردیتے ہیں تو وہ کبھی کبھار ہمارے طرف اینٹ بھی اچھال دیتا ہے۔
پھر وہ بات ہمیں سننا پڑتی ہے۔
ہم جہاں ملازمت، بزنس، خاندان، بیوی بچوں کی خوشیوں کے لیے بھاگے جارہے ہیں، وہیں ہمارے آس پاس بہت سی گونگی چیخیں اور سرگوشیاں بکھری پڑی ہیں۔ اچھا ہو کہ ہم اپنے ارد گرد کی سرگوشیاں سن لیں تاکہ ہم پر اینٹ اچھالنے کی نوبت نہ آئے۔

نظم – پروین شاکر



چلو اس خواب کو ہم ترک کر دیں
اور آنکھوں کو یہ سمجھا دیں
کہ ہر تصویر میں ہلکا گُلابی رنگ چاہے سے نہیں آتا
بُہت سے نقش، نقاشِ ازل ایسے بناتا ہے
کہ جن کا حاشیہ گہراسیہ
اور نقش ہلکا سُرمئی رہتا ہے
اور جن پر کسی بھی زاویے سے چاند اُترے
یہ کبھی روشن نہیں ہوتے
خدا کچھ کام آدھی رات کو کرتا ہے
جب اس کے پیالے میں
سیاہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا
یہ خاکہ بھی
کسی ایسی ہی ساعت میں بنا ہوگا

ہماری آنکھ میں جو خواب اُترا تھا
بُہت خوش رنگ لگتا تھا
مگر اس کے دمکنے میں
کئی آنکھیں لہو ہوتیں
کتابوں اور پھولوں سے سجے جس گھر کے آنگن میں
ہم اپنے آپ کو کھلتے ہوئے محسوس کرتے تھے
وہاں اک اور گھر بنیاد سے یوں سر اُٹھاتا تھا
کہ ہم اندر سے ہل جاتے
مگر چپ چاپ رہتے تھے
یہ چپ دیمک کی صورتہم کو اک دن چاٹ جاتی!

تمہارے دکھ سے واقف ہوں
اور اپنے مقدر کی لکیروں کی بھی محرم ہوں
ہمارے بس میں رنگوں کا چناؤ ہے
نہ خط کا
سو اس تصویر کو تحلیل کر دیں
ہم اپنا کینوس تبدیل کر لیں !..

مرد کی چار شادیاں سُنت ہیں لیکن کیسے؟

مرد کی چار شادیاں سُنت ہیں لیکن کیسے؟

پہلی شادی پہ جہیز سے بھرا ہوا ٹرک لے کر 18 سالہ کنواری لڑکی لے کر تین چار سو بندوں کی بارات لیجا کر ہر قسم کی جاہِلانہ رسموں رِواج کو نبھا کر پھر ہر سُنت کا مذاق اڑا کر کس مُنہ سے دوسری شادی کی بات کرتے ہو؟

ادبی طریقہ یہ ہے کہ پہلے پہلا نکاح سُنتِ رسول ﷺ کیمطابق چالیس سالہ بیوہ سے کیجیئے یقیناً وہ آپکو دوسرا نکاح کرنے سے منع نہیں کرے گی , پھر دوسرا نکاح طلاق یافتہ سے کیجیئے یقیناً دوسری بیوی تیسرا نکاح کرنے سے منع نہیں کرے گی اور پھر کنواری سے کیجیے بغیر جہیز لیے بغیر پورے خاندان کے کپڑے لیے بغیر رسموں رواج نبھاتے ہوۓ پھر سنت کی بات کی جا سکتی ہے۔منقول

جیت یقیناً آپ کی ہے۔🙏🍃💗💞کیونکہ پاکستان زیر تعمیر ہے *****

سائنس کا کہنا ہے کہ 🤔🙏🍃💗💗
ایک صحتمند مرد کے جماع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمیے موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ، منطق کے مطابق، اگر اس مقدار میں نطفہ کو کسی لڑکی کے رحم میں جگہ مل جاتی ہے تو 400 ملین بچے پیدا ہوجاتے!
یہ 400 ملین اسپرم ، ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں، اور اس دوڑ میں صرف 300 یا 500 سپرمیے ہی بچ پاتے ہیں۔🙏🍃💗💞

اور باقی؟ وہ راستے میں ہی تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔ یہ 300-500 سپرمیے ہیں، جو بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط سپرمیہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے ، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنالیتا ہے۔🙏🍃💗💞

کیاآپ جانتے ہیں وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین سپرمیہ کون ہے؟🙏🍃💗💗

وہ خوش نصیب سپرمیہ آپ، میں، یا ہم سب ہیں۔

کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟

جب آپ بھاگے “تو آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھے، پھر بھی آپ جیت گئے!🙏🍃💗💞

جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس سرٹیفکیٹس نہیں تھے، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ پھر بھی جیت گئے!🍃💗💞

جب آپ بھاگے تو آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی تھی لیکن آپ جیتے۔🙏🍃💗💞

آپ کے پیش نظر صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔🙏🍃💗💞

اس کے بعد ، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے ، آپ نے اپنے 9 مہینے پورے کیے۔
بہت سے بچے پیدائش کے وقت ہی مر جاتے ہیں لیکن آپ بچ گئے۔
زندگی کے پہلے 5 سالوں میں بہت سے بچے فوت ہوجاتے ہیں۔ آپ ابھی بھی زندہ ہیں۔🙏🍃💗💞
بہت سے بچے غذائی قلت سے مر جاتے ہیں۔ تمہیں کچھ نہیں ہوا۔
بہت سے لوگوں نے بڑھنے کے راستے پر دنیا کو چھوڑ دیا ہے، آپ اب بھی زندہ ہیں۔🙏🍃💗💞

اور آج ……

آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہوجاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی ، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔ جب آپ نے زندگی کے پہلے دن ہار نہیں مانی۔ 400 ملین سپرمیوں میں سے موت کی جنگ لڑ رہے تھے، آپ نے بغیر کسی مدد کے مسلسل چل کر تنہا مقابلہ جیت لیا ہے۔

جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟
آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟
آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟🙏🍃💗💞
ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے ، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟🙏🍃💗💞
آپ فرسٹریٹ کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو وقت دیں، اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ کے پاس کیا ہنر ہے۔۔۔
جیت یقیناً آپ کی ہے۔🙏🍃💗💞
کیونکہ پاکستان زیر تعمیر ہے ***** منقول۔

گھر والی عورت جب باھر والی عورت اور باھر والا مرد گھر والا مرد بنتا ھے

پچھلے ایک سو سال سے ہمارا میڈیا ہمیں باہر والی عورت، اور باہر والے مرد سے محبت کرنا سکھا رہا ہے۔ اس زمانے میں محسوس ہوتا ہے، ہم نے وہ سیکھ لیا ہے۔ لیکن پرابلم یہ ہے کہ وہ باہر والی عورت، اور باہر والا مرد جب گھر والی عورت اور گھر والا مرد بنتے ہیں، تو ہم ان سے محبت کرنا نہیں جانتے ہوتے۔ ہمیں ان سے محبت کرنا نہیں آتا۔ ہم نے گھر والی عورت، یا گھر والے مرد سے محبت کرنا سیکھا ہی نہیں ہوتا، ہمیں گھر والی عورت اور گھر والے مرد سے محبت کرنا سکھایا ہی نہیں گیا ہوتا۔ ہم اس وقت بھی باہر والی عورت، اور باہر والے مرد سے ہی محبت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم لو میرج کے بعد بھی باہر منہ مارنے سے باز نہیں آتے۔ ہمیں باہر والی عورت اور باہر والے مرد ہی اچھے لگتے رہتے ہیں۔
کاش شروع میں ہی میڈیا ہمیں گھر والی عورت، اور گھر والے مرد سے محبت کرنا سکھا دیتا۔
تقریباً ڈیڑھ سو سال ہو گیا ہے، فلم اور سینما آئے ہوئے، اور تقریباً اتنا ہی عرصہ ہو گیا ہے، لوگوں کو ارینجڈ میرج کے خلاف، اور لو میرج کے حق میں سنتے اور دیکھتے ہوئے۔ اور تقریباً اتنا ہی عرصہ ہو گیا ہے لوگوں کو بیوی یا شوہر سے اکتاہٹ دیکھتے، اور محبوبہ یا محبوب کے تصورات کی مالا جپتے ہوئے۔
لوگوں کے ساتھ ظلم یہ ہوا ہے، کہ لو میرج بھی صرف شادی تک دکھائی جاتی ہے۔ شادی کے بعد کس طرح رہنا ہے، انہیں پھر نہیں معلوم ہوتا۔
وہ بیچارے اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے، کہ لو میرج ہو یا ارینجڈ میرج، گھر بنانا، اور اکٹھے رہنا، ایک اور ہی سائنس ہے، ایک اور ہی علم ہے۔ انہیں یہ علم سیکھنا ہے۔
اس بات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، کہ لو میرج کے مقابلے میں، ارینجڈ میرج زیادہ بااخلاق، اور زیادہ مذہبی ہے۔ اس میں دو انسانوں کے ایک دوسرے کے قریب آنے، ایک دوسرے کو سمجھنے، اور قریب آنے میں وقت کے ساتھ ساتھ محبت بھی زیادہ گہری اور مخلص ہوتی ہے.

بچوں کی نفسیات سمجھ کر اگر ان کو ٹریٹ کیا جائے تو ہر بچہ زہین ہو سکتا ہے

Continue reading “بچوں کی نفسیات سمجھ کر اگر ان کو ٹریٹ کیا جائے تو ہر بچہ زہین ہو سکتا ہے”
Syed Raza Sherazi

Software Engineer in iPhone Development

Osmaanqazikhan

Osmaanqazikhan

PARMARTH

परमार्थ परमो धर्म: धर्म स्वार्थ तथैव च:।

EFRONA MOR - 52 Secrets Prioritizing Life & Love

How To Prioritize Yourself—a smart path to life and love.

شمشیر

waseemabbasioffical

www.khuch-kahi-unkahi-baten.com

Sunhairi aqwal for life changing

lynelgardner's Blog

A topnotch WordPress.com site

Dailylife

All Matters of routine Life

JucelinoLuz

Ambientalista, ativista, escritor

My experience

#Rehana's 🔥🔥🔥🦋🦋motivational thoughts

BelieveU

Straight from the heart

eGlobal Top Online

Everything on the globe you desire, find on eglobaltop.com

mPKg

making Pakistan great

ALLE Ceambur

Marketing Expert

matt wright research lab

adelphi university

Communion Table

Scriptural Meal Moments Concerning Christ’s Body, Blood, & Bride.

Create your website with WordPress.com
Get started