نہ جانے کیوں

دل اٹھ سا گیا ھے ھر چیز سے آج جب میں نے موبائل اٹھایا سیلفی بنانے کا سوچ کر ۔۔۔۔۔ اک ہوک سی اٹھی دل میں درد کی شدید لہر جو برداشت سے باہر تھی ۔۔۔۔۔ جس کو سوچ کے سیلفی لیتے تھے ھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں سے مٹ چکے ہم کب کے ۔۔۔۔۔۔۔ جس کو سوچ کے سنورتے تھے کبھی وہ سنورتے ہیں کسی اور کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کے بغیر جینے کا سوچ کر سانسیں روکتی محسوس ہوتی تھیں وہ اب جیتے کسی اور کے لیے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کی اک نظر خود پہ روکنے کے لیے گھنٹوں شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر نوک پلک سنوارتے تھے ہر زاویعے سے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج ترس گئے ان کی اک مسکراہٹ کے لیے ایسی مسکراہٹ جو دل سے تھی صرف میرے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش میرے ویران دل کو خدا آ باد کر دے پھر سے شاد کر دے ۔ ۔۔۔۔۔۔ نجانے کیوں کیسے لوگ کھیل لیتے ہیں کسی اور کے دل سے ۔۔۔۔۔۔ ہم تو مخلصی کے مارے ھیں ایک اس کے بعد کوئی جچتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ نہ شرک کر کے خود کو گنہگار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہر چیز بے معنی لگتی ہے پتھر کے صنم سب وار چکے تجھ پہ ۔۔۔ میرے زندہ وجود کو مردہ کرنے والے ہم اپنا جنازہ خود پڑھ چکے کب کا ۔ابھی وجود دفنانا باقی ھے ۔تجھے الوداع کہنا باقی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی ہاتھ ھیں خالی دل ھے خدا نے آ زمایا کچھ الگ طرح سے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لب خاموش ہیں آنکھیں ساقط ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسا درد دیا میرے مولا نہ کوئی شکوہ رہا نہ کوئی شکایت تجھ سے۔۔۔۔۔۔ حیران ھوں میں مجھے چنا ھے رب نے تو کوئ مصلیحت ھوگی بس یہ ہی دعا ھے میری رب سے میرے دل کو صبر کرنا سیکھا دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد میرا کم کر دے میرے مولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نہیں ھوں اس کے دل میں نجانے کب سے یہ بات مجھے بھولنا سکھا دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیتے جاگتے انسان کو دن رات جس کے ساتھ ھوں اس کی پوری دنیا اک ھی شخص ہو اس شخص کی لیے سب قربان کر چکے ھوں ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ شخص ھمارے ساتھ رہتے ہوے بھی کسی اور کو دیکھ کر دل ٹھنڈا کرے چھپ چھپ کر اس سے با ت کرے اسے ہی سوچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسا شخص ٹھیک ھوگا ہم غلط ھوں شاید۔ ۔۔۔۔ ہم میں کچھ خاص ہوتا ہمارا دل تنہا نہ ھوتا ۔۔۔۔ ہم غلط تھے شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم غلط ہیں شاید آ ج بھی۔۔۔۔۔۔۔۔

چچا چھکن نے تصویر ٹانگی…



چچا چھکن کبھی کبھار کوئی کام اپنے ذمے کیا لے لیتے ہیں، گھر بھر کو تگنی کا ناچ نچا دیتے ہیں۔ ’’آ بے لونڈے، جا بے لونڈے، یہ کیجو، وہ دیجو،‘‘ گھر بازار ایک ہو جاتا ہے۔دور کیوں جاؤ، پرسوں پرلے روز کا ذکر ہے، دکان سے تصویر کا چوکھٹا لگ کر آیا۔ اس وقت تو دیوان خانے میں رکھ دی گئی، کل شام کہیں چچی کی نظر اس پر پڑی، بولیں، ’’چھٹن کے ابا تصویر کب سے رکھی ہوئی ہے، خیر سے بچوں کا گھر ٹھہرا، کہیں ٹوٹ پھوٹ گئی تو بیٹھے بٹھائے روپے دو روپے کا دھکا لگ جائے گا، کون ٹانگے گا اس کو؟‘‘

’’ٹانگتا اور کون، میں خود ٹانگوں گا، کون سی ایسی جوئے شیر لانی ہے، رہنے دو، میں ابھی سب کچھ خود ہی کیے لیتا ہوں۔‘‘


کہنے کے ساتھ ہی شیروانی اتار چچا ٹانگنے کے درپے ہو گئے۔ امامی سے کہا، ’’بیوی سے دو آنے لے کر میخیں لے آ۔‘‘ ادھر وہ دروازے سے نکلا ادھر مودے سے کہا، ’’مودے! مودے! امامی کے پیچھے جا۔ کہیو تین تین انچ کی ہوں میخیں۔ بھاگ کر جا لیجو اسے راستے میں ہی۔‘‘

لیجیے تصویر ٹانگنے کی داغ بیل پڑ گئی اور اب آئی گھر بھر کی شامت۔ ننھے کو پکارا، ’’او ننھے، جانا ذرا میرا ہتھوڑا لے آنا۔ بنو! جاؤ اپنے بستے میں سے چفتی (لکڑی کی تختی) نکال لاؤ اور سیڑھی کی ضرورت بھی تو ہو گی ہم کو۔ ارے بھئی للو! ذرا تم جا کر کسی سے کہہ دیتے۔ سیڑھی یہاں آ کر لگا دے اور دیکھنا وہ لکڑی کے تختے والی کرسی بھی لیتے آتے تو خوب ہوتا۔

چھٹن بیٹے! چائے پی لی تم نے؟ ذرا جانا تو اپنے ان ہمسائے میر باقر علی کے گھر۔ کہنا ابا نے سلام کہا ہے اور پوچھا ہے آپ کی ٹانگ اب کیسی ہے اور کہیو، وہ جو ہے نہ آپ کے پاس، کیا نام ہے اس کا، اے لو بھول گیا، پلول تھا کہ ٹلول، اللہ جانے کیا تھا۔ خیر وہ کچھ بھی تھا۔ تو یوں کہہ دیجو کہ وہ جو آپ کے پاس آلہ ہے نا جس سے سیدھ معلوم ہوتی ہے وہ ذرا دے دیجیے۔ تصویر ٹانگنی ہے۔ جائیو میرے بیٹے پر دیکھنا سلام ضرور کرنا اور ٹانگ کا پوچھنا نہ بھول جانا، اچھا۔۔۔

یہ تم کہاں چل دیے للو؟ کہا جو ہے ذرا یہیں ٹھہرے رہو۔ سیڑھی پر روشنی کون دکھائے گا ہم کو؟ آ گیا امامی؟ لے آیا میخیں؟ مودا مل گیا تھا؟ تین تین انچ ہی کی ہیں نا؟ بس بہت ٹھیک ہے۔ اے لو ستلی منگوانے کا تو خیال ہی نہیں رہا۔ اب کیا کروں؟ جانا میرے بھائی جلدی سے۔ ہوا کی طرح جا اور دیکھیو بس گز سوا گز ہو ستلی۔ نہ بہت موٹی ہو نہ پتلی۔ کہہ دینا تصویر ٹانگنے کو چاہیے۔ لے آیا؟ او ودّو! ودو! کہاں گیا؟ ودو میاں ۔۔۔ اس وقت سب کو اپنے اپنے کام کی سوجھی ہے، یوں نہیں کہ آ کر ذرا ہاتھ بٹائیں۔ یہاں آؤ۔ تم کرسی پر چڑھ کر مجھے تصویر پکڑانا۔‘‘

لیجیے صاحب خدا خدا کر کے تصویر ٹانگنے کا وقت آیا، مگر ہونی شدنی، چچا اسے اٹھا کر ذرا وزن کر رہے تھے کہ ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ گر کر شیشہ چُور چُور ہو گیا۔ ہئی ہے! کہہ کر سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ چچا نے کچھ خفیف ہو کر کرچوں کا معائنہ شروع کر دیا۔ وقت کی بات انگلی میں شیشہ چبھ گیا۔ خون کی تللی بندھ گئی۔

تصویر کو بھول اپنا رومال تلاش کرنے لگے۔ رومال کہاں سے ملے؟ رومال تھا شیروانی کی جیب میں۔ شیروانی اتار کر نہ جانے کہاں رکھی تھی۔ اب جناب گھر بھر نے تصویر ٹانگنے کا سامان تو طاق پر رکھا اور شیروانی کی ڈھنڈیا پڑ گئی۔ چچا میاں کمرے میں ناچتے پھر رہے ہیں۔ کبھی اس سے ٹکر کھاتے ہیں کبھی اس سے۔

’’سارے گھر میں کسی کو اتنی توفیق نہیں کہ میری شیروانی ڈھونڈ نکالے۔ عمر بھر ایسے نکموں سے پالا نہ پڑا تھا اور کیا جھوٹ کہتا ہوں کچھ؟ چھے چھے آدمی ہیں اور ایک شیروانی نہیں ڈھونڈ سکتے جو ابھی پانچ منٹ بھی تو نہیں ہوئے میں نے اتار کر رکھی ہے بھئی۔‘‘

اتنے میں آپ کسی جگہ سے بیٹھے بیٹھے اٹھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ شیروانی پر ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ اب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، ’’ارے بھئی رہنے دینا۔ مل گئی شیروانی ڈھونڈ لی ہم نے۔ تم کو تو آنکھوں کے سامنے بیل بھی کھڑا ہو تو نظر نہیں آتا۔‘‘

آدھے گھنٹے تک انگلی بندھتی بندھاتی رہی۔ نیا شیشہ منگوا کر چوکھٹے میں جڑا اور تمام قصّے طے کرنے پر دو گھنٹے بعد پھر تصویر ٹانگنے کا مرحلہ درپیش ہوا۔ اوزار آئے، سیڑھی آئی، چوکی آئی، شمع لائی گئی۔

چچا جان سیڑھی پر چڑھ رہے ہیں اور گھر بھر (جس میں ماما اور کہاری بھی شامل ہیں) نیم دائرے کی صورت میں امداد دینے کو کیل کانٹے سے لیس کھڑا ہے۔ دو آدمیوں نے سیڑھی پکڑی تو چچا جان نے اس پر قدم رکھا۔ اوپر پہنچے۔ ایک نے کرسی پر چڑھ کر میخیں بڑھائیں۔ ایک قبول کر لی، دوسرے نے ہتھوڑا اوپر پہنچایا، سنبھالا ہی تھا کہ میخ ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر پڑی۔ کھسیانی آواز میں بولے، ’’اے لو، اب کم بخت میخ چھوٹ کر گر پڑی، دیکھنا کہاں گئی؟‘‘

اب جناب سب کے سب گھٹنوں کے بل ٹٹول ٹٹول کر میخ تلاش کر رہے ہیں اور چچا میاں سیڑھی پر کھڑے ہو کر مسلسل بڑبڑا رہے ہیں، ’’ملی؟ ارے کم بختو ڈھونڈی؟ اب تک تو میں سو مرتبہ تلاش کر لیتا۔ اب میں رات بھر سیڑھی پر کھڑا کھڑا سوکھا کروں گا؟ نہیں ملتی تو دوسری ہی دے دو اندھو۔۔۔‘‘

یہ سن کر سب کی جان میں جان آتی ہے تو پہلی میخ ہی مل جاتی ہے۔ اب میخ چچا جان کے ہاتھ میں پہنچاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصے میں ہتھوڑا غائب ہو چکا ہے۔ ’’یہ ہتھوڑا کہاں چلا گیا؟ کہاں رکھا تھا میں نے؟ لاحول ولا قوۃ۔ الّو کی طرح آنکھیں پھاڑے میرا منہ کیا تک رہے ہو؟ سات آدمی اور کسی کو معلوم نہیں ہتھوڑا میں نے کہاں رکھ دیا؟‘‘

بڑی مصیبتوں سے ہتھوڑے کا سراغ نکالا اور میخ گڑنے کی نوبت آئی۔ اب آپ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ناپنے کے بعد میخ گاڑنے کو دیوار پر نشان کس جگہ کیا تھا۔ سب باری باری کرسی پر چڑھ کر کوشش کر رہے ہیں کہ شاید نشان نظر آجائے۔ ہر ایک کو الگ الگ جگہ نشان دکھائی دیتا ہے۔ چچا سب کو باری باری الّو، گدھا کہہ کہ کر کرسی سے اتر جانے کا حکم دے رہے ہیں۔

آخر پھر چفتی لی اور کونے سے تصویر ٹانگنے کی جگہ کو دوبارہ ناپنا شروع کیا۔ مقابل کی تصویر کونے سے پینتیس انچ کے فاصلے پر لگی ہوئی تھی۔ بارہ اور بارہ کے (کتنے) انچ اور؟ بچوں کو زبانی حساب کا سوال ملا۔ باآواز بلند حل کرنا شروع کیا اور جواب نکالا تو کسی کا کچھ تھا اور کسی کا کچھ۔ ایک نے دوسرے کو غلط بتایا۔ اسی ’تو تو میں میں‘ میں سب بھول بیٹھے کہ اصل سوال کیا تھا۔ نئے سرے سے ناپ لینے کی ضرورت پڑ گئی۔

اب چچا چفتی سے نہیں ماپتے۔ ستلی سے ماپنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سیڑھی پر پینتالیس درجے جا زاویہ بنا کر ستلی کا سرا کونے تک پہنچانے کی فکر میں ہیں کہ ستلی ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے۔ آپ لپک کر پکڑنا چاہتے ہیں کہ اسی کوشش میں زمین پر آ رہتے ہیں۔ کونے میں ستار رکھا تھا۔ اس کے تمام تار چچا جان کے بوجھ سے یک لخت جھنجھنا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔

اب چچا جان کی زبان سے جو منجھے ہوئے الفاظ نکلتے ہیں، سننے کے قابل ہیں مگر چچی روک دیتی ہیں اور کہتی ہیں، ’’اپنی عمر کا نہیں تو ان بچوں کا ہی خیال کرو۔‘‘

بہت دشواری کے بعد چچا جان ازسر نو میخ گاڑنے کی جگہ معین کرتے ہیں۔ بائیں ہاتھ سے اس جگہ میخ رکھتے ہیں اور دائیں ہاتھ سے ہتھوڑا سنبھالتے ہیں۔ پہلی ہی چوٹ جو پڑتی ہے تو سیدھی ہاتھ کے انگوٹھے پر۔ آپ ’سی‘ کر کے ہتھوڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ نیچے آ کر گرتا ہے کسی کے پاؤں پر، ہائے ہائے، افوہ اور مار ڈالا شروع ہو جاتی ہے۔

چچی جل بھن کر کہتی ہیں، ’’ یوں میخ گاڑنا ہوا کرے تو مجھے آٹھ روز پہلے خبر دے دیا کیجیے۔ میں بچوں کو لے کر میکے چلی جایا کروں اور نہیں تو۔۔۔‘‘

چچا نادم ہو کر جواب دیتے ہیں، ’’یہ عورت ذات بھی بات کا بتنگڑ ہی بنا لیتی ہے۔ یعنی ہوا کیا جس پر یہ طعنے دیے جا رہے ہیں؟ بھلا صاحب کان ہوئے۔ آئندہ ہم کسی کام میں دخل نہ دیا کریں گے۔‘‘

اب نئے سرے کے کوشش شروع ہوئی۔ میخ پر دوسری چوٹ جو پڑی تو اس جگہ کا پلستر نرم تھا، پوری کی پوری میخ اور آدھا ہتھوڑا دیوار میں۔ چچا اچانک میخ گڑ جانے سے اس زور سے دیوار سے ٹکرائے کہ ناک غیرت والی ہوتی تو پچک کر رہ جاتی۔

اس کے بعد ازسرِ نو چفتی اور رسی تلاش کی گئی اور میخ گاڑنے کی نئی جگہ مقرر ہوئی اور کوئی آدھی رات کا عمل ہو گا کہ خدا خدا کر کے تصویر ٹنگی۔ وہ بھی کیسی؟ ٹیڑھی اور اتنی جھکی ہوئی کہ جیسے اب سَر پر آئی۔ چاروں طرف گز گز بھر دیوار کی یہ حالت گویا چاند ماری ہوتی رہی ہے۔

چچا کے سوا باقی سب تھکن سے چور نیند میں جھوم رہے ہیں۔ اب آخری سیڑھی پر سے دھم سے جو اترتے ہیں تو کہاری غریب کے پاؤں پر پاؤں۔ غریب کے ڈیل (چھالا) تھی۔ تڑپ ہی تو اٹھی۔ چچا اس کی چیخ سن کر ذرا سراسیمہ تو ہوئے مگر پل بھر میں داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولے، ’’اتنی سی بات تھی، لگ بھی گئی، لوگ اس کے لیے مستری بلوایا کرتے ہیں۔‘‘

(ممتاز ڈرامہ نویس امتیاز علی تاج کی ایک شگفتہ تحریر، چچا چھکن ان کا تخلیق کردہ وہ کردار ہے جو قارئین میں بہت مقبول ہوا)

رب عزوجل سے کیا مانگا جائے۔۔یہ قیمتیں تو فائدہ کا سودا ہیں۔

رب عزوجل سے کیا مانگا جائے۔۔رب عزوجل سے کیا مانگا جائے۔۔راز کی بات یہ ھے جب تم اس سے کچھ مانگتے ہو تو تمھیں اس کی کچھ نہ کچھ قیمت ادا کرنی پڑتی ھے کم ہو یا زیادہ ہو۔
کبھی ہم خوب صورت مستقبل کے خواہ خاں ہیں کبھی اولاد نرینہ کبھی اولاد زرینہ تو کبھی اچھا گھر چاہئے ۔ہو سکتا ھے وظیفے منتیں مرادیں کر کے اچھا گھر تو پا لے مگر بعد وقت اس کو احساس ہو کہ اچھے گھر کے لئے پیسہ تو جمع کیا اور اس پہ توجہ رکھی مگر اولاد اور گھر والوں کے ساتھ بہت سے قیمتی لمحات ضائع کر دیے۔۔۔بیٹا نہیں تو منتیں مرادیں مانگی مگر جوان ہونے پہ وہ ناخلف نکلا۔۔زندگی آسائش پر سہولت تو مانگی اور مل بھئ گئی مگر سکون نا ہوا تو کیا فائدہ۔۔صحت مانگی بہت کہ وظیفے کر ڈالے بس تو دے ہی دے کیا معلوم صحت ملنے پہ رب کو یاد ہی نہ کرے اور صحت کی حالت غفلت میں گزرے۔۔کبھی تنخواہ میں اضافہ کی الگ التجائیں کی بڑھ تو گئی عہدہ بھی مل گیا مگر دور بعد میں احساس ہوا کہ فلاں فلاں قیمتی چیز تو چلی گئی۔ اولاد کے لئے اچھے لائف سٹائل، اعلی رشتوں کے لئے تو وظیفے دعائیں کر ڈالی مگر نہیں معلوم کیا تو اس قیمت کا کہ جو مانگا اس کی کوئی نہ کوئی قیمت تو ہو گی۔

راز یہی ھے شاید رب چاہتا ھے جو چیز جیسے ھے ویسے ہی رہنے دو جیسے مل رہی ھے ویسے قبول کرو ضد نہ کرو۔۔اور صابر اور شاکر رہو۔دے تو دیتا ھے کیونکہ خود فرماتا ھے دعا کرو میں قبول کرنے والا ہوں ۔مگر قیمت ادا کرنے والا نقطہ اپنی جگہ قائم ھے ۔
عافیت عافیت اور بس فضل کے سوالی رہو۔ایمان والی موت مانگو ۔یہی مسلمان کا سرمایہ ھے۔
لہمیں اپنے رب تعالی سے ایسے سودے میں تو کرنے ہیں جن کی قیمت ادا تو ہو گی مگر فائدہ بھی سراسر اپنا ہو گا۔عبادت میں لذت مانگی مل گئی اور پھر اتنی کی کہ جسم کمزور پڑگیا گال چپک گئے چہرے کی خوب صورتی وہ نہ رہی جو پہلے تھی۔۔مگر یہ قیمت تو اچھی ھے نا💕 ۔۔صحیح جگہ صحیح موقعہ پہ سچ بولا پھر بھی رسوائی کہ لوگوں نے ساتھ ہی چھوڑ دیا۔مگر یہ قیمت تو اچھی ھے اب کوئی نہیں تو رب تعالی کا ساتھ تو یقینی ھے💕 رب کا حکم ھےعفو در گزر کرو لوگوں نے فضول جان کر دھکے دے ڈالے قیمت ادا ہوئی تو صلہ یہ ہوا رب کا در مل جائے گا💕 دین کے کام کی مصروفیت نے بہت تھکن اور مشکلات دی یہ قیمت ھے ۔۔مگر قیمت تو اچھی ھے کہ خاندان کی رنگا رنگ محفلیں سے رب نے پناہ عطا کر دی۔۔زندگی میں صحت چایئے تو قیمت یہ ہوئی کہ لذید کھانے آنکھ کے سامنے ہوتے ہوئے بھی صرف طیب چیز کھانا)(organic) ۔۔اولاد کو بہترین کردار کا بنانا ھے تو قیمت تو ہوگی کہ ان اکثر ان کی دنیاوی خواہشات کو کچل کر آزمائش بھرا کام کرنا ہو گا
یہ قیمتیں تو فائدہ کا سودا ہیں۔

ارے خیر چھوڑیں…….*گزارش بس اتنی تھی

ایک بڑے اسکول کے چھوٹے سے بچے کو جب میں نے کلاس میں ریپر پھینکتے دیکھا تو فورا بولا بیٹا اس کو اٹھائیں تو اس بچے نے جھٹ کر کے جواب دیا کہ انکل میں کوئی سوئیپر تھوڑی ہوں تھوڑی دیر میں سوئیپر انکل آ کر اٹھا لینگے ۔یہ اس بچے کا جواب نہیں تھا یہ اس اسکول کا جواب تھا جہاں سے وہ تعلیم حاصل کررہا ہے ۔
میں نے کئی لوگوں کو بغیر ہیلمٹ اور بغیر سیٹ بیلٹ باندھے پاکستان کے ٹریفک کے نظام کو گالیاں دیتے دیکھا ہے ۔
میں نے کئی لوگوں کو فٹ پاتھ پر پان کی پیک مارتے ، اپنی گلی کے سامنے والی گلی میں کچرا ڈالتے ، سیگرٹ پی کر زمین پر ڈالتے اور پھر دبئی اور لندن کی صفائی ستھرائی کا ذکر کرتے دیکھا ہے ۔
اپنے مکان کی تعمیر کے دوران اچھے خاصے درخت کو کاٹتے اور اور پھر سنگاپور کی ہریالی کا ذکر کرتے سنا ہے ۔٘
میں نے کئی اماوں کو چیختے ہوئے دیکھا ہے جو اپنے بچوں کو چیخ کر کہتی ہیں کہ چیخا مت کرو میں کوئی بہری نہیں ہوں اور کئی باپوں کو مارتے ہوئے دیکھا ہے کہ جو بچوں کو کہتے ہیں آئیندہ بھائی کو ہاتھ مت لگانا ورنہ ہاتھ توڑ دونگا ۔ اپنے گھر کی گیلری کو بڑھاتے اور گلی گھیرتے دیکھا ہے اور ان ہی کی زبان سے امریکا اور یورپ کی چوڑی چوڑی گلیوں اور سڑکوں کا ذکر سنا ہے ۔
میں نے مسجد کے باہر بیچ روڈ پر لوگوں کو گاڑی پارک کرتے دیکھا ہے کہ جن کو نماز کو دیر ہورہی ہوتی ہے اور پھر ان ہی لوگوں سے کئی کئی گھنٹوں حقوق العباد پر لیکچر سنا ہے ۔ نجانے کتنے لوگوں کو شادی میں وقت کی پابندی اور سادگی پر جلتے کڑھتے دیکھا ہے اور پھر ان ہی کے گھر کی شادیوں میں وقت کو برباد ہوتے اور سادگی کی دھجیاں اڑتے دیکھی ہیں ۔ اور پتہ نہیں کتنے لوگوں کو ۔۔۔۔۔
ارے خیر چھوڑیں…….
*گزارش بس اتنی تھی کہ ہر کام نواز شریف ، زرداری ، عمران خان ،فوج اور پولیس کو نہیں کرنے ہوتے کچھ کام ہمارے کرنے کی بھی ہوتے ہیں شکریہ منقول

اے دوست بتا تو کیسا ہے

اے دوست بتا تو کیسا ہے
کیا اب بھی محلّہ ویسا ہے ؟
وہ لوگ پرانےکیسے ہیں ؟
کیا اب بھی وہاں سب رہتے ہیں ؟
جن کو میں تب چھوڑ گیا
دوکان تھی جوایک چھوٹی سی
کیا بوڑھا چاچا ہوتا ہے ؟
کیا چیزیں اب بھی ہیں ملتی
بسکٹ ، پاپڑ اور گولی
اور گولی کھٹی میٹھی سی ؟
بیری والے گھر میں اب بھی
کیا بچّے پتھر مارتے ہیں ؟
اوربوڑھی امّاں کیا اس پر
اب بھی شور مچاتی ہے ؟
بجلی جانے پر اب بھی
کیا خوشی منائی جاتی ہے
پھر چھپن چھپائی ہوتی ہے ؟
کیا پاس کسی کے ہونے پر
مٹھائی بھی بانٹی جاتی ہے ؟
بارش کے پہلے قطرے پر
کیا ہلّہ گلّہ ہوتا ہے ؟
اور غم میں کسی کے اب بھی
کیا پورا محلّہ روتا ہے ؟
گلی کے کونے میں بیٹھے
کیا دنیا کی سیاست ہوتی ہے ؟
گڈے گڑیوں کی کیااب بھی
بچوں میں شادی ہوتی ہے ؟
اے دوست بتا سب کیسا ہے
کیا محلّہ اب بھی ویسا ہے ؟
کیا اب بھی شام کو سب سکھیاں
دن بھر کی کہانی کہتی ہیں ؟
پرلی چھت سے چھپ چھپ کر
کیا اب بھی انہیں کوئی دیکھتا ہے ؟
کیا اب بھی چھپ چھپ کر ان میں
کوی خط و کتابت ہوتی ہے ؟
وہ عید پہ بکروں بیلو ں کا
کیا گھر گھرمیلہ سجتا ہے ؟
خاموش ہےتو کیوں دوست میرے
کیوں سر جھکا کر روتا ہے ؟
ہلکے ہلکے لفظ دبا کر کہتا ہے
سب لوگ پرانے چلے گئے
سب بوڑھے چاچا ، ماما ، خالو
خالہ ، چاچی ، امّاں
سب ملک عدم کو لوٹ گئے
گھر بکے اور تقسیم ہوئے
اپنےحصّے لے کر سب
اپنے مکاں بنا بیٹھے
انجانوں کی بستی ہے وہ
اب لوٹ کے تو کیا جائے گا
دل تیرا بھر بھر آئے گا

*لمحہء فکریہ🤔*

*اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوگیا؟ ؟؟؟*


ایک شخص “Gree Ac” کی ٹھنڈک سے سو کرصبح “Seiko-5” کے الارم سے اٹھتا ھے “Colgate” سے برش کرتا ہے “Gellet” سے شیو کرکے “Lux” صابن اور “Dove” شیمپو سے نہاتا ہے اور نہانے کے بعد “Levis” کی پینٹ “POLO” شرٹ اور “GUCCI” کے شوز “Jocky” کے socks پہن لیتا ہے چہرے پر “Nevia” کریم لگا کر “Nestlé food” سے ناشتہ کرنے کے بعد “Rayban” کا چشمہ لگا کر “HONDA” کی گاڑی میں بیٹھ کر کام پر چلا جاتا ہے۔
راستے میں ایک جگہ سگنل بند ھوتا ہے وہ جییب سے
“آئی فون 11” نکالتا ہے اور “زونگ” پر 4G internet چلانا شروع کر دیتا ہے اتنے میں سبز بتی جلتی ہے آفس پہنچ کر “HP” کے کمپیوٹر میں کام میں مشغول ھو جاتا ہے کافی دیر کام کرنے کے بعد اسے بھوک محسوس ھوتی ہے تو “McDonald’s ” سے کھانا اور ساتھ میں “Nestlé ” کا پانی بھی منگواتا ہے۔
کھانے کے بعد “Nescaffe” کی کافی پیتا ہے اور پھر تھوڑا آرام کرنے چلا جاتا ہے کچھ آرام کے بعد “Red Bull” پیتا ھے اور دوبارہ کام میں مشغول ھو جاتا ہے تھوڑا بوریت محسوس ھونے پہ جیب سے Apple کے “i-pods”نکال کے انڈین گانے سنتا ھے ساتھ ھی “TCS” سے ایک پارسل بیرون ملک بھیجواتا ھے اور “PANASONIC” کے لینڈ لائن سے اطلاع کرتا ھے۔ اور “PARKER” کے Pen سے ایک نوٹ لکھتا ھے۔کچھ دیر بعد “ROLEX” کی گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ واپسی کا وقت ہو گیا ہے تو وہ دوبارہ “HONDA” کی گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے اور گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہے۔
کچھ ہی لمحے بعد “Shell” کا پیٹرول پمپ آ جاتا ہے وہاں سے ٹنکی فل کرواتا ہے اور “HYPER STAR” کا رخ کر لیتا ہے سٹور سے بچوں کے لئے “میگی” اور “کنور” کے نوڈلز “CADBARY” KIT KAT” اور “SNIKERS” اور “Nestle” کے مہنگے جوس وغیرہ خرید لیتا ہے سپر سٹور کے ساتھ ہی “PIZZA HUTT” سے وہ بیوی بچوں کے لئے پیزا اور “KFC” سے برگرز کی ڈیل بھی خرید لیتا ہے۔
گھر جا کر کھانا کھانے کے بعد سب گھر والے “SONY” کے Led پر مشہور زمانہ ” NewsChannel ” پر مایوسی والی خبریں سن رہے ھوتے ہیں اور ہاتھ میں “Coke” کے گلاس پکڑے ھوتے ہیں کہ خبر آتی ہے کہ اسرائیل نے فلسطینوں بمباری کی یہ سن کر وہ آگ بگولہ ھو جاتا ہے اور اونچی آواز میں بولتا ہے !!!
اسرائیل اتنا طاقتور کیسے ہوگیا؟
*لمحہء فکریہ🤔*. منقول

Amazon products for review

Hello!Greetings to All

I am giving away free Amazon products in exchange for an honest review, are you interested in the offer?Hi dear, this is
(mishi khan) have been working of free amazon product since two years . I have many free products for (uk us de ca) when ever you are loking for nice and good stuff please buzz us on fb zaib khan. https://www.facebook.com/profile.php?id=100024524705445 or via email you can cotact us . i believe yor will enjoy our service we do both review and rating products.

کیا ہم سب نا مرد ھیں۔۔۔۔ھمارے معاشرے کا المیہ



میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خلع چاہیے۔ وہ تنسیخ نکاح کا عام سا کیس تھا۔
اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی۔ دو پیارے سے بچے تھے کیوٹ اور معصوم سے لیکن خاتون بضد تھی کہ اسکو ہر حال میں خلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مدعا علیہ (شوہر) شدید صدمے کی کیفیت میں تھا – – –
ِجج صاحب اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لیجا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مدعاعلیہ (شوہر) کا وکیل ہونے کے ناطے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق میں نے فوری حامی بھر لی۔ جبکہ مدعیہ (بیوی) کے وکیل نے اس پر اچھا خاصہ ہنگامہ بھی کیا لیکن خاتون بات چیت کے لئیے راضی ہوگئی۔

چیمبر میں دونوں میاں بیوی میرے سامنے بیٹھے تھے:-
” ہاں خاتون۔! آپ کو اپنے شوہر سے کیا مسئلہ ہے”؟ – –

” وکیل صاحب یہ شخص مردانہ طور پر کمزور ہیں”. – –
میں اسکی بے باکی پر حیران رہ گیا۔ میرے منہ سے ایک موٹی سی گندی سی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔ البتہ منہ میں تو دے ہی ڈالی۔ ویسے تو کچہری میں زیادہ تر بے باک خواتین سے ہی واسطہ پڑتا ہے لیکن اس خاتون کی کچھ بات ہی الگ تھی۔
اسکے شوہر نے ایک نظر شکایت اس پر ڈالی اور میری طرف امداد طلب نظروں سے گھورنے لگا۔ میں تھوڑا سا جھلا گیا کہ کیسی عورت ہے ذرا بھی شرم حیا نہیں ہے – –
بہرحال میں نے بھی شرم و حیا کا تقاضا ایک طرف رکھا
اور تیز تیز سوال کرنا شروع کر دیے۔
جب اس سے پوچھا :-
” کیا اس کا اپنے مرد سے گزارہ نہیں ہوتا”؟ – –
تو کہتی ہے کہ:-
” ماشاءاللہ دو بچے ہیں ہمارے۔ یہ جسمانی طور پہ تو بالکل ٹھیک ہیں” – – –

” تو بی بی پھر مردانہ طور پر کمزور کیسے ہوئے”؟ – –
میں نے استفسار کیا۔۔۔

وکیل صاحب! میرے بابا دیہات میں رہتے ہیں اور زمینداری کرتے ہیں۔ ہم دو بہنیں ہیں اور میرے والد ہمیں کبھی” دھی رانی” سے کم بلایا ہی نہیں جبکہ میرے شوہر مجھے” کتی ” کہہ کے بلاتے ہیں – – -” یہ کونسی مردانہ صفت ہے وکیل صاحب ؟- – “
مجھ سے کوئی چھوٹی موٹی غلط ہو جائے تو یہ میرے پورے میکے کو ننگی ننگی گالیاں دیتے ہیں؟ – -” آپ ہی بتائیں جی اس میں میرے مائیکے کا کیا قصور ہے – – – یہ مردانہ صفت تو نہیں نا کہ دوسروں کی گھر والیوں کو گالی دی جائے – –
وکیل صاحب۔! میرے بابا مجھے شہزادی کہتے ہیں – – – اور یہ غصے میں مجھے ” کنجری” کہتے ہیں – –
وکیل صاحب ! مرد تو وہ ہوتا ہے نا جو کنجری کو بھی اتنی عزت دے کہ وہ کنجری نہ رہے اور یہ اپنی بیوی کو ہی کنجری کہہ کر پکارتے ہیں – – – یہ کوئی مردانہ بات تو نہیں ہوئی نہ – – – ؟؟
وکیل صاحب اب آپ ہی بتائیں کیا یہ مردانہ طور پر کمزور نہیں ہیں” ؟ – –
میرا تو سر شرم سے جھک گیا تھا۔ اس کا شوہر بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسکی طرف دیکھ رہا تھا
” اگر یہی مسئلہ تھا تو تم مجھے بتا سکتی تھیں نا۔ مجھ پر اس قدر ذہنی ٹارچر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔” ؟
شوہر منمنایا۔۔۔

” آپ کو کیا لگتا ہے آپ جب میری ماں بہن کے ساتھ ناجائز رشتے جوڑتے ہیں تو میں خوش ہوتی ہوں۔۔؟ – –
اتنے سالوں سے آپکا کیا گیا یہ ذہنی تشدد برداشت کر رہی ہوں اس کا کون حساب دے گا؟ ” – –
بیوی کا پارہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا۔۔

خیر جیسے تیسے منت سماجت کر کے سمجھا بجھا کے انکی صلح کروائی ۔۔
میرے موکل نے وعدہ کیا کہ وہ آئئندہ اب کبھی اپنی بیوی کو گالی نہیں دے گا اور پھر وہ دونوں چلے گئے۔۔۔

میں کافی دیر تک وہیں چیمبر میں سوچ بچار کرتا رہا کہ گالیاں تو میں نے بھی اس خاتون کو اس کے پہلے جواب پر دل ہی دل میں بہت دی تھیں تو شاید میں بھی نامرد ہوں اور شاید ہمارا معاشرہ نامردوں سے بھرا پڑا ہے…

#منقول

Amazon products for review

Hello everyone , I hope you all fine and good this is
(mishi khan):have been working of free amazon product since two years . I have many free products for (uk us de ca) when ever you are loking for nice and good stuff please buzz us on fb zaib khan. https://www.facebook.com/profile.php?id=100024524705445 or via email you can cotact us . i believe yor will enjoy our service we do both review and rating products.

حکیم صاحب کی کچھ نصیحتیں صرف 30پلس افراد کے لیے

حکیم صاحب : فرمانے لگے: اگر 35 سے اوپر کے ہو چلے ہو تو میری یہ چند نصیحتیں یاد رکھنا۔

سب سے پہلی بات

حتی المقدور کوشش کرنا کہ تیری یہ دو چیزیں تیرے قابو میں رہیں؛
پہلی: تیرا فشار خون (بلڈ پریشر)۔
دوسری: تیرے خون میں شکر کا تناسب

دوسری بات

ان سات چیزوں کا استعمال کم سے کم کرنا
پہلی: نمک
دوسری: چینی
تیسری: گوشت یا دیگر محفوظ کردہ غذائیں
چوتھی: سرخ گوشت
پانچویں: دودھ اور اس کی بائی پروڈکٹس
چھٹی: نشاستہ دار غذائیں
ساتویں: كاربونيٹیڈ گیسوں والے مشروبات

تیسری بات

اپنے کھانوں میں ان تین اشیاء کی کثرت کرنا

پہلی: سبزیاں
دوسری: پھل
تیسری: خشک میوہ جات

چوتھی بات

ان تین چیزوں کو بھلانے کی کوشش کرنا
پہلی: تیری عمر
دوسری: تیرا ماضی
تیسری: اگر تیرے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہوئی ہو تو

پانچویں بات

ان چار چیزوں کو، بھلے تیرا جتنا زور لگے، اپنے پاس رکھنا
پہلی: اپنے محبین اور دوستوں سے تعلق
دوسری: اپنے خاندان کا خیال
تیسری: مثبت سوچ
چوتھی: مشاکل کو اپنے گھر سے دور

چھٹی بات

اپنی صحت کی حفاظت کیلئے ان پانچ کا اہتمام رکھنا
پہلا: روزے
دوسرا: ہنسی مذاق اور مسکراہٹیں
تیسرا: مسلسل سفر و سیاحت
چوتھا: جسمانی ورزش
پانچواں: اپنا وزن کم کرنے کےلئے محنت کرنا

ساتویں بات

ان چار باتوں کو کبھی نظر انداز نہ کرنا
پہلی: پانی پینے کیلئے پیاس کا انتظار نہ کرنا
دوسری: نیند کیلئے جماہیوں کا انتظار نہ کرنا
تیسری: آرام کیلئے تھکاوٹ ہونے کا انتظار نہ کرنا
چوتھی: اپنے ریگولر میڈیکل ٹیسٹ کیلئے بیمار ہونے کا انتظار نہ کرنا

آٹھویں اور سب سے ضروری بات

نمبر ایک: اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ اپنا روحانی تعلق مضبوط بنا کر رکھنا، تلاوت کا اہتمام، تہجد کی کوشش اور دعاء ومناجات کی کثرت۔

نمبر دو: ذات باری سے استغفار اور آقا حبیبنا مصطفی علیہ السلام پر درود و سلام کی کثرت۔ان سے صحت ، فکر فاقے اورمال میں خیر ہوگی۔ اور دارین کی خوشیاں ملیں گی۔

www.khuch-kahi-unkahi-baten.com

Sunhairi aqwal for life changing

Syed Raza Sherazi

Software Engineer in iPhone Development

Osmaanqazikhan

Osmaanqazikhan

PARMARTH

परमार्थ परमो धर्म: धर्म स्वार्थ तथैव च:।

EFRONA MOR - Writer & Author of Epic Fantasy

How To Become a Better Writer—Best Epic Fantasy Books

شمشیر

waseemabbasioffical

lynelgardner's Blog

A topnotch WordPress.com site

Dailylife

All Matters of routine Life

JucelinoLuz

Ambientalista, ativista, , influenciador , escritor , orientador espiritual

My experience

#Rehana's 🔥🔥🔥🦋🦋motivational thoughts

BelieveU

Straight from the heart

eGlobal Top Online

Everything on the globe you desire, find on eglobaltop.com

mPKg

making Pakistan great

Alle Ceambur

Content Marketer & Writer

matt wright research lab

adelphi university

Create your website with WordPress.com
Get started