ازدواجی زندگی میں چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے رنگ بھرئے

بِیوِی : آپ اِس گھر کے بہت اچھے بھائی اور بیٹے ہیں-
شوہر : آہاں اور ہسبنڈ اچھا نہیں ہوں کیا ؟ ؟
بِیوِی : نہیں کیوں کہ آپ اچھے صرف اپنی بہنوں اور ماں کےلئے ہیں ، میرے لیے بالکل بھی نہیں
شوہر : تو اب کیا کریں ؟ ?? اس کا کوئی حَل ہے ؟ ??
بِیوِی : آپ اپنی ساری چیزیں پلیز اِس روم سے لے کے چلے جائیں تا کہ میں آپ سے بدتمیزی کر کے مزید گناہ گار ہونی سے بچ سکوں
شوہر مسکرا دیا ، بیگم کو بازئوں میں اٹھا کے یہ کہتے ہوئے باہر لے گیا کہ ” ’ اِس کمرے میں تو بس یہی ایک چیز میری ہے یار ، باقی تو سب کچھ تمہارا ہے ’
رشتون میں محبت قائم رکھنے کےلئے آتے جاتے طنز و مزاح زندگی کو خوبصورت بنا دیتے ہیں . کوشش کریں اپنی ہمسفر کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہیں-

صبرWhy always Woman ?



● آدمی: – میری بیوی مجھے دھوکہ دے رہی ہے۔
سوسائٹی: – طلاق دو اور دوسروں سے شادی کرلو۔

● خواتین: – میرے شوہر نے میرے علاوہ کسی اور عورت کے ساتھ تعلق رکھا مجھ سےدھوکہ کیا ہے
سوسائٹی: – صبر کرو اسے سج سنور کے رجھاؤ کے اسکے دل کی زیادہ دیکھ بھال کرو۔
طلاق کے لئے مت پوچھو۔ اپنے کنبے کے لئے صبر کرو۔ ہمیشہ مسکراتے رہو اور بہترین پکوان بنانے کی کوشش کرو

.

● آدمی: – میری بیوی بچہ کو جنم نہیں دے سکتی،
سوسائٹی: – دوسری شادی کرلو، اسے چھوڑ دو،

● خواتین: – میرا شوہر بانجھ ہے
سوسائٹی: – صبر کرو کہ خدا صبر کرنے والو کے ساتھ ہے،

.

● آدمی: – میری بیوی بیمار ہے اور اب وہ گھریلو کام نہیں کرسکتی ہے
سوسائٹی: – طلاق دو اور دوسری سے شادی کرلو، ورنہ گھر کیسے چلےگا،

● خواتین: – میرا شوہر بیمار ہے اور کام کرنے سے قاصر ہے۔
سوسائٹی: – صبر کرواور اپنے کنبے کی کفالت کے لیۓ کام کی تلاش کرو اور ہاں جب بھی تم ملازمت ختم کر کے واپس آؤ اپنے بیمار شوہر کی دیکھ بھال کرنا اور اپنے گھر کی صفائی کرنا نہ بھولنا،

.

● آدمی: – میری ضدی بیوی میری باتیں نہیں سنتی،
سوسائٹی: – طلاق دواور دوسری سے شادی کرو،

● خواتین: – میرا شوہر میری خلاف ورزی کرتا ہے اور میری توہین کرتا ہے۔
سوسائٹی: – اپنے بچوں اور کنبہ کے لئے صبر کرو۔

.

● آدمی: – میری بیوی خوبصورت نہیں ہے مجھے اب زیادہ پسند نہیں ہے وہ،
سوسائٹی: – خوبصورت سے شادی کرو، چھوڑ دو اسکو،

● خواتین: – میرا شوہر خوبصورت نہیں ہے اور ہر روز پسینے پسینے کی خوشبو آرہی ہے اور اب میں اسے پسند نہیں کرتی ہوں،
سوسائٹی: – صبر کرو یہاں تک کہ اگر آپ کا شوہر بدصورت ہے۔یہ کیا کافرانہ لفظ کہہ رہی ہو،
.
کیوں معاشرے کو ہمیشہ خواتین کو تبدیل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے گویا فرنیچر یا سکریپ کا ایک ٹکڑا نظرانداز ہوتا ہے اور ساتھ ہی خواتین کو ہمیشہ صبر کا مشورہ بھی دیتا ہے !!!؟

جیسے ھمارے اعمال ھوں گے وییسا حاکم ھو گا ،تاریخ گواہ ھے

حجاج بن یوسف دنیا کے عظیم ترین ظالموں میں سے ایک ہے
ایک بزرگ و علم دین حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ
فرماتے ہیں کہ اگر پچھلے امتوں کے ظلم سے اسکے ساتھ رکھ دیں تو یہ زیادہ ھوں گے
70ہزار لوگوں کو اس نے خود مارہ اور 90 ہزار افراد اسکے حکم سے
کسی نے ہمت کر کے بول دیا کہ آپ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے طرزیں حکومت کیوں نہیں کرتے ؟
تو کہنے لگا کہ آپ مجھے ابوذر غفاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرح رعایا دے دو۔
بس
اللہ تعالی غالب ھیں اور حکمرانوں کے دل بھی اللہ کے قبضے میں ہیں ۔
جب اعمال اچھے ھوں گے تو ان کو نرم کر دے گا۔

دور حاضر کی عورتیں اور ان کی مجبوریاں ۔۔؟؟



ایک عورت کی بس ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی شادی ہو جائے کیونکہ اس دنیا میں اکیلی عورت کا جینا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے، جتنی بھی لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہوتیں ان کی اکثریت کی زبان پر بس ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ یا اللہ مجھے جلدی اٹھا لے…!

جس طرح کا ماحول ہے اور جس طرح کی تکالیف کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے اگر دیکھا جائے تو وہ بالکل ٹھیک دعا مانگتی ہیں، ہمارے ہاں عورت بس ایک استعمال کی چیز ہے بے سہارا ہے تو پھر تو کچھ مردوں کی اکثریت کا دل ہوتا ہے کہ جلدی اس کے بستر پر لیٹ جائے اور اگر طلاق یافتہ ہے یا بیوہ ہے تو پھر اکثریت یہ ہی سوچتے ہیں کہ اس کیلئے تو بستر پر لیٹنا اب کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے…!
ہمارے ہاں کچھ مردوں کی اکثریت اگر کسی عورت کی مدد بھی کرتی ہو تو یہ ہی سوچ کر کرتی ہے کہ اس کے بدلے اسے جسم سے کھیلنے کا ایک بار موقع مل جائے، میں کوئی اتنا نیک نہیں ہوں ، اچھے برے خیال مجھے بھی آتے ہین لیکن کسی مجبور عورت کا فائدہ اٹھانا میرے نزدیک سب سے بدتر گناہ ہے،
لڑکیاں اپنی خوشی سے کسی کے ساتھ سو جائیں یہ بھی برا ہے لیکن اکثریت مجبور ہے، پچھلے دنوں کراچی میں ایک عورت کو پولیس نے ایک دھندے والی جگہ سے پکڑا تو اس نے روتے ہوئے بتایا کہ صرف 500 روپے میں اپنے بچے کی بھوک کی وجہ سے وہ ایسا کر رہی ہے، آج سے کچھ سال پہلے جب میں اپنے دفتر سے نکلتا تھا تو ایک لڑکی روز جیل روڈ پر کھڑی ہوتی تھی راہ چلتے مردوں کو آواز لگاتی تھی بابو چلو گے صرف 100 روپیہ لوں گی اور ایک دن اس کی حالت اتنی بری تھی کہ آواز لگا رہی تھی بابو 10 روپے ہی دیدو جو کہو گے کروں گی اس وقت میں گھبرا کر وہاں سے جلدی جلدی سائیکل بھگا کر لے گیا کہ کسی نے دیکھ لیا تو کیا کہے گا لیکن اب اس کی آواز کانوں میں گونجتی ہے تو نیند نہیں آتی…!
وہ تو شاید کب کی مرچکی لیکن میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اس جیسی کتنی ہی روز سڑکوں پر کھڑی ہوتی ہیں ، سب کی اپنی اپنی مجبوریاں ہیں کوئی بلیک میل ہو رہی ہے کسی کی ماں بیمار ہے کسی کی مجبوری ہے نوکری کرنی ہے تو باس کو بھی خوش رکھنا ہے، سمجھ سے بالاتر ہے ایک مجبور لڑکی کے جسم کو کچھ لوگ ہاتھ کیسے لگا لیتے ہیں اس کے درد کو محسوس ہی نہیں کرتے…!
کتنی لڑکیاں محبت کے نام پر عزت گنوا بیٹھتی ہیں ان کی ویڈیو بنتی ہے اور بعد میں محبوب کے دوست بھی مزے کرتے ہیں ، عجیب مزہ ہے جو کسی کی آہوں ، سسکیوں، آنسوؤں کی پروا ہی نہیں کرتا، عورت کوئی کھلونا تو نہیں ہے جب دل بھر گیا نیا لے لیا ، عورت گلاب کا پھول تو نہیں کہ جب مرجھا گیا نیا توڑ لیا، بس اتنا کہوں گا کہ آپ کسی لڑکی کی مدد کر سکتے ہیں تو لازمی کریں لیکن اس کے بدلے میں اس کے جسم کی طلب مت رکھیں اسے عزت سے جینے دیں…!! منقول

پاکستانی عورتوں کی عیاشیاں اور لفاظیاں



بند کرو یہ مظلومیت کے رونے،تم پاکستانی عورتیں عیاشی کرتی ہو”
یہ تھا وہ لاؤڈ اینڈ کلیئر جملہ جس کے بعد محفل میں پن ڈراپ سائلینس چھا گیا۔یہ فقرہ میری ایک فیمیل کزن کا تھا جو کینیڈا میں پیدا ہوئی۔وہیں پلی بڑھی۔وہیں شادی ہوئی اور آج دو بچوں کی ماں ہے اور پچھلے دنوں ایک شادی اٹینڈ کرنے پاکستان آئی ہوئی تھی۔
تم لوگوں کو پتہ ہے؟میں صبح چھ بجے اُٹھتی ہوں۔پہلے بچوں کو پھر خود تیار ہوتی ہوں۔ناشتہ بناتی ہوں۔سب صبح مل کے ناشتہ کرتے ہیں۔بڑے بیٹے کو سکول بس لینے آتی ہے اور چھوٹی بچی ابھی دو سال کی ہے تو میں اُسے کام پہ جاتے ہوئے ڈےکیئر سینٹر چھوڑ کر جاتی ہوں کیونکہ وہ میرے دفتر کے راستے میں پڑتا ہے۔پھر نو سے پانچ بجے تک جاب کرتی ہوں اور واپسی پہ چھوٹی بچی کو ڈےکیئر سے لے کر آتی ہوں۔میرا شوہر بھی اسی طرح نو سے پانچ جاب کرتا ہے۔بڑے بیٹے کو سکول بس گھر چھوڑ دیتی ہے۔پھر گھر آ کر صفائی ستھرائی اور کھانا بنانے میں لگ جاتی ہوں۔اس دوران میرا شوہر بیٹے کو ہوم ورک کرواتا ہے اور پھر روزانہ کا بازار سے دودھ دہی سودا سلف وغیرہ لے کر آتا ہے۔رات کا کھانا اکٹھا کھانے کے بعد ہم لوگوں کا دس بجے تک سونا لازمی ہے کیونکہ پھر صبح چھ بجے سب نے اُٹھنا ہوتا ہے۔اکثر چھوٹی بچی رات کو سونے نہیں دیتی تو کبھی میں اور کبھی میرا شوہر رات کو اُس کو بہلا رہے ہوتے ہیں۔جس سے ہم دونوں کی اکثر نیند بھی پوری نہیں ہو پاتی۔ویک اینڈ تو اکثر ہمارا صفائیاں کرتے اور واشنگ مشین کے ساتھ گزرتا ہے۔”کام والی ماسی” کی عیاشی ہمارے سمیت بہت سارے لوگ افورڈ نہیں کر سکتے۔
دوسری طرف تم میں سے کتنی پاکستانی عورتیں جاب کرتی ہیں؟ ویسے اس وقت یہاں بیٹھی تم میں سے کوئی بھی جاب نہیں کر رہی؟زیادہ تر نے گھر کے کام کاج کے لیے لڑکی رکھی ہوئی ہے اور جنہوں نے نہیں رکھی ہوئی؟ اُن کے گھروں میں روزانہ کام کرنے والی ماسیاں آتی ہیں۔یہ ماسیاں روز برتن دھوتی اور صفائی کرتی ہیں اور ہر دوسرے دن کپڑے بھی دھو جاتی ہیں۔تم لوگ زیادہ سے زیادہ تھوڑی بہت ھانڈی روٹی کر لیتی ہو؟
جاب اور گھر کے کام کاج(کوئی خاص) تم لوگ نہیں کرتیں؟شوہروں کی کمائی کھا کھا کے موٹی بھینسیں بنتی جا رہی ہو۔بچوں کی ٹیوشن کے لیے ٹیوٹر اور قاری صاحب رکھے ہوئے ہیں۔ہر وقت ڈرامے،یو ٹیوب اور فیس بُک وغیرہ پہ تم لوگ موجود ہوتی ہو اور رونے رو رہی ہوتی ہو کہ پاکستانی عورت بہت مظلوم ہے؟یہاں کا مرد اپنی بیوی کی عزت نہیں کرتا اور اُسے ایک commodity کی طرح ٹریٹ کرتا ہے؟
تو وہ اور کیا کرے؟؟؟
یاد رکھو اس دنیا میں صرف بچے ہی ایسا رشتہ ہیں جن پہ انسان بغیر کسی صلے کے خرچ کرتا ہے کیونکہ اپنے بچوں سے تقریبآ ہر انسان کو unconditional love ہوتا ہے۔اس کے علاوہ کسی اور رشتے میں بے لوث محبت بہت مشکل ہوتی ہے؟تم لوگوں نے اپنی حیثیت خود بخود ایک sex object سے زیادہ ہونے نہیں دی؟انسان جس پہ پیسہ خرچ کرتا ہے اُس کو غیرشعوری طور پہ اپنی پراپرٹی یا commodity ہی سمجھتا ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ اُسے لاشعوری طور پہ اپنا غلام یا تابعدار ہی سمجھتا ہے؟
اگر تم لوگ چاہتی ہو کہ یہاں کا مرد تمہیں برابر کا انسان سمجھے مغرب کی طرح ؟
تو پھر اُس کے برابر کا انسان بنو
پڑھو لکھو،پیسے کماؤ اور دونوں مل کے گھر کا خرچ چلاؤ۔
نہیں تو جس پیارے دین نے تمہیں ماں، بہن، بہو اور بیٹی کی صورت میں شہزادی بنایا ہے اسکے مطابق اپنےشوہر کے حقوق ادا کرو، قناعت اور شکر گزاری کا پیکر بنو.
اپنے شوہروں پہ کام کا لوڈ کم کرو.بیل کی طرح یہ لوگ سارا دن کام کرتے ہیں اور گھر آ کر یہ بیل ہی بن جائیں؟
بہت مشکل ہے؟
گھر آ کر بھی یہ لوگ پھر وہی رہتے ہیں اور ایک بیل سے یہ expect کرنا کہ وہ دوسرے کو یعنی اپنی بیوی کو انسان سمجھے؟
کیسے ممکن ہے؟
ابھی یہ لیکچر و کلاس ختم ہونے والی ہی تھی کہ ڈی جے والے بابو نے چٹیاں کلائیاں والا گانا چلا دیا اور کلاس پھر دوبارہ چل پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ گانا ہی سُن لو،اس میں یہ کہہ رہی ہے کہ”توں لیا دے مینوں گولڈن جھمکے”
اب تحفہ بھی کبھی مانگ کر لیا جاتا ہے؟دوسرے کی مرضی اور تعلق پہ depend کرتا ہے کہ وہ آپ کو اپنی خوشی سے کچھ دے؟کیا یہ کمینوں کی طرح مانگ رہی ہے؟جب آپ خود پیسے نہ کما رہے ہوں تو آپ پھر منگتے ہی بن جاتے ہیں اور دیکھو مانگ بھی کیا رہی ہے گولڈ کے جھمکے؟جیسے یہ بڑے سستے آتے ہیں؟اُس بیچارے کی چاہے پورے مہینے کی تنخواہ اُتنی نہ ہو جتنے کے یہ جُھمکے ہیں؟
یہاں پہ تقریبآ ہر کوئی ایک ہی بات بتاتی ہے کہ بس جی ہماری ہی قسمت پھوٹ گئی تھی؟میری ایک سہیلی ہے جس کو اُس کے شوہر نے شہزادیوں کی طرح رکھا ہوا ہے؟
آب یہ کیا بکواس ہے؟
تم لوگ خود کیا کسی بادشاہ کی اولاد ہو جو تمہیں شہزادیوں والا ٹریٹمنٹ ملے؟جاؤ پھر ڈھونڈو ایک شہزادہ اور پھر اُس سے کرو شادی۔پاکستان میں تو بادشاہی نظام ہے ہی نہیں اور یہ شہزادی ازم ہے کیا جی؟بس بیٹھے رہو۔اشارہ ہو،زبان چلے اور سب کچھ ہو جائے مطلب ھاتھ پیر نہ ہلانے پڑیں
۔یہ سیدھی سیدھی ھڈحرامی اور کام چوری نہیں تو ہے اور کیا؟
منقول
متفق؟؟؟

اسلام سے پہلے بیٹیوں کو ذندہ دفن کرنے کا رواج عام تھا

ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﮩﺎلت ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔
ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯾﺘﮯ یا ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﯾﺎ ﺗﮭﻤﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﺩﯾﺘﮯ ۔
ﺑﭽﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﺐ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺑﭽﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﭩﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﭼﻼﺗﯽ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻇﺎﻟﻢ ﺑﺎﭖ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ۔ﺍﺱ ﻗﺒﯿﺢ ﻓﻌﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﯽﭼﯿﺨﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﺗﯽ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺎﻟﮯ ﭘﮍے ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻧﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ.
ﺑﻌﺾ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﺮﺯد ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ کہ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻟﮯ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻭﮦ ﺳﺎﺭا ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽﺗﻮﺗﻠﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ۔
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭا ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋشوں ﮐﻮ ﺑﮩﻼﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﺍسے ﻟﮯ ﮐﺮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯽ ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﯿﭽﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﯾﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ. ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ۔
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﮭﻮﺩﻧﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﯾﺖ ﮐﮭﻮﺩﺗﮯ ﺭﮨﮯ ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﺱ ﺩﻥ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺭﯾﺖ ﮐﮭﻮﺩﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔
ﻭﮦ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺧﺪﺍﻭں ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺩﯾﮟ۔
ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
” ﺍﺑﺎ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ بهی قربان ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ”؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﭘﮭﯿﻨﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﻭﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺩﮨﺎئیاں ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﺎ. ﯾﮧ ﻭﮦ ﻧﻘﻄﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﺣﻤﺖ للعالمین ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺿﺒﻂ
ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ صلی اللہ علیہ وسلم کی ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﺑﻨﺪﮪ ﮔﺌﯽ۔
ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮨﻮﮔﺌﯽ ۔
ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻻ ﺑﻦ ﮐﺮ ﭘﮭﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔
ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺩﮬﺎﮌﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺻﻠﯽﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ.

-انتخاب
#Copied

✍۔۔۔ برقع



برقع تو وہ عورت زیب تن کرتی ہے جو بدصورت ہوتی ہے یا جسکے پاس پہننے کو کپڑے نہیں ہوتے یا جو صرف فیشن کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

کیونکہ حیا تو نیت پر ہوتی ہے 👍

حقیقت تو یہ ہے کے آج کل زیادہ تر لڑکیاں یہ ہی بات سوچ کر پردہ نہیں کرتی ۔کے حیا نیت میں ہونی چاہئے ۔آنکھوں میں ہونی چاہئے ۔
اگر پردہ کرتی بھی ہیں تو براۓ نام سا ۔جس سے مرد حضرات اپنی آنکھوں کی پیاس بھجا ہی لیتے ہیں ۔یا پھر اتنی خوبصورتی سے پردہ کرتی ہیں کے مرد حضرات دیکھے بنا نہیں رہتے ۔
پردہ ہر حال میں مکمل اور اچھے طریقے سے کرنا چاہئے ۔کیوں کے تم عورت ہو ۔عورت کا مطلب ہے چھپی ہوئی ۔
کم از کم مرد اور عورت کا فرق تو رکھو
سینا تان کر اکڑ کر چلنے والی عورت مجھے زہر لگتی ہے میرا دل کرتا ہے انھیں پکڑ کر پوچھوں تمہارے گھر میں باپ بھائی نہیں ہیں کیا جو ایسے اترا کر چل رہی ہو ۔
اور اگر بات نیت کی ہی ہے ۔تو بہن کپڑے اتار کر فرو ۔کیا فرق پڑتا ہے آپ کی نیت تو بلکل صاف ہے کوئی کج بھی سوچے ۔
پردہ تقریبان ختم ہو چکا ہے ۔پاکستان کے بڑے شہروں میں مرد عورت کا فرق ختم ہو چکا ہے ۔
نکے نکے کپڑے پہنے جاتے ہیں ۔اور ان کپڑوں میں بہت عجیب لگتی ہیں لڑکیاں ۔سوکھی ہوئی پینسل جیسی ٹانگوں میں ٹایٹ سے پینٹی اور نکی سی فرا کی پہن کے زیرو بنی پھرتی ہیں ۔خود کو پری سمجھتی ہیں ۔ٹینگو ٹینگو سی بن کے گھوم رہی ہوتی ہیں ۔ٹھیک ہے فیشن کرو ۔پر کپڑے تو مکمل پہننے چاہئے ۔تاک کے مکمل عورت لگو ۔پہلے ایسا لباس کنجرو ں کی پہچان ہوا کرتا تھا ۔اب یہ لباس شریفوں کا اونچے طبقے کے آ لا قوالٹی کے لوگوں کی پہچان بن گیا ۔کوئی فرق ہی نہیں رہا ۔
پتا نہیں باپ بھائیوں میں شرم نہیں رہی ۔یا عورت ذات نے خود کو گرا لیا ہے
پردے کو توہین سمجھتی ہیں ۔ہمارے مارننگ شو میں بھی کنجر خانہ متعارف کروا یا جاتا ہے روزانہ ۔بن دپٹے کے دندناتی پھرتی ہیں مارننگ شو والی باجیاں
کم از کم پردہ ضرور کر لینا چاہیے پلز بہنو ۔چاہے جو بھی ہو مرتے دم تک بھی پردہ نہیں چھوڑنا چاہئے ۔
کیوں کے اگر تم پردہ نہیں کرتی تو تم عورت نہیں ہو ۔رب تعالیٰ کی طرف سے اس عورت میں مردوں کی مشا بہت ڈال دی جاتی ہے ۔اس عورت کی نظر مردوں کی نظر جیسی ہو جاتی ہے ۔اور بے پردہ عورت سے بھی پردہ واجب ہے

ایم کے الٹرا مائنڈ پروگرامنگ


یہ ضیاء دور کی بات ہے کہ پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ میں ایک کمرے کا سین ہے – کرسی پر ایک لڑکا بیٹھا ہے اور ایک لڑکی اس کے پاس سے گزرتے ہوے اپنا دوپٹہ اتارتے ہوے یہ کہتے ہوے دوسرے کمرے میں جاتی ہے
میں کپڑے بدل کے ابھی آتی ہیں
دوسرے دن پورے پاکستان میں اس فحاشی کے خلاف مظاہرے شوروع ہو جاتے ہیں جو اس ڈرامے کے بین ہونے اور اداکاروں کے معافی تک چلتے ہیں

آج ایک لڑکی باتھ روم سے نہا کے تولیہ لپیٹے باہر نکل کے اپنے ہی گھر والوں کو اپنی ننگی ٹانگوں کی ملائمیت دیکھا رہی ہوتی ہے – کسی کو کوئی مسلہ نہی –
شادی سے پہلے لڑکا آدھی رات کو دیوار پھاند کے لڑکی کے کمرے میں پایا جاتا ہے – کسی کو کوئی مسلہ نہی –
کھلے عام پورے لوازمات کے ساتھ کنڈمز کے اشتہار چلتے ہیں – کسی کو کوئی مسلہ نہی
کسی بھی چیز کے اشتہار میں لڑکیوں کو نچاۓ بغیر اشتہار بنتا ہی نہی — کسی کو کوئی مسلہ نہی
ابھی ٹیلی نار کے اشتہار میں ایک لڑکی نہاتے ہوے باتھ ٹب میں لیٹی اپنے موبائل سے ویڈیو کال کر رہی ہے
کسی کو کوئی مسلہ نہیں
برقہ یا حجاب پردہ کی بجاے فحاشی کا ہی ذریعہ بنتا جا رہا – کسی کو کوئی مسلہ نہی
آج سے بیس پچیس سال پہلے جن چیزوں کا تصور بھی ہمارے معاشروں میں نہی تھا آج وہ کھلے عام پائی جاتی ہیں ، دوستو جن چیزوں کو ہم انتہائی قبیح سمجھتے ہیں برا سمجھتے ہیں ان چیزوں کو آہستہ آہستہ ہمارے شعور کے سامنے اس طرح لایا جاتا ہے کہ ہمیں احساس ہی نہی ہوتا لیکن ہمارا لاشعور اسے محفوظ کرتا جاتا ہے
اسی کو ایم کے الٹرا مائنڈ پروگرامنگ کہتے ہیں – آگے اس کے اور بھی بیشمار طریقے ہیں
لیکن آپ دیکھیں کہ پوسٹ کے شروع میں ضیاء دور کا ایک واقعہ بیان کیا ہے اور آج ہم کہاں پہنچ چکے ہیں

حضورنبی_کریمﷺ نے_متعددنکاح_کیوں_کیے؟

مہربانی فرما کر پوری تحریر پڑھئے گا

کافی عرصہ کی بات ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت انبیۖ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔

چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔

یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی…

اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں ۔۔۔۔۔
میں نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گئے تو کراچی سے انگلستان کا سفر کافی لمبا تھا ، ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔

ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پو چھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟
میں نے بتایا، اسلام ۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پوچھا، میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟

میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺکے بارے میں (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعدمیرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور ﷺکے بارے میں نفرت پیدا ہوگئی اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔

آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔

جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔

غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر آج ڈاکٹر عنایت اللہ کا یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں میرا کیا بنتا؟

اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور ﷺکی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہوجا تے ہیں ۔

اس لئیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔

میں ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگو ں کو حضور ﷺکی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہوگیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہوگئے۔

لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لو گو ں کو بتائیں ۔

اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔

انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کررہا ہو ں۔ اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ” گرجا گھر“ چلے جا تے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم ﷺکا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شا دیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

◀ (1) میرے پیا رے نبی ﷺ نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔
50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کیا ۔ جبکہ وفات کے وقت حضرت خدیجہ رضی کی عمر 65 سال تھی، (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفا ت کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺنے نکا ح کئے ۔

پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں …… آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا….؟
سب خاموش رھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺنے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺنے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔

پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔
اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم ﷺنے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو تر غیب دینے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے

◀ (2) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا

◀ (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور

◀ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے مختلف اوقات میں نکاح کئے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا خواتین کے گھر آباد ہوگئے –

◀ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ ﷺ کے پیش,نظر تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربو ں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔

ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺکے شدید ترین مخالف تھے ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺکا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجر ت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلات سے گھر پہنچیں ۔ حضور ﷺ نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا.

◀ (6) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کا والد قبیلہ معطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوکر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔

◀ (7) خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم ﷺ سے کرا دیا ۔

◀ (8) اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺکے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مشاہدہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔

◀ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں بھیجا تھا۔

◀ (10) حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح متبنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی الله عنہ حضور ﷺ کے متبنی(منہ بولے بیٹے) کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید رضی الله عنہ نے انہیں طلاق دے دی تو حضور ﷺنے نکاح کر لیا اور ثابت کردیا کہ متبنی ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا.

◀ (11) اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سرچشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس ﷺ کی سیرت پاک ہے۔
آپ ﷺکی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ رضی الله عنہم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتوں میں اس کام کے لئیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔

ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لئیے آپ ﷺنے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔

حضور اقدس ﷺکیوفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 45 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرما تے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔
اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازدواجِ مطہرات رضی اللہ عنہما کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لئیے تھیں اور سار ی دنیا کے لیے تھیں اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جاسکتا۔

آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔
اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کرلیں اور کوئی بدبخت حضور ﷺکی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔

*🌹جزا الله عنا سيدنا محمد ﷺما هوا اهله🌹*

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے ۔ (آمین ) منقول

Create your website at WordPress.com
Get started